اسلام میں والدین کا مقام بہت بلند ہے۔ ان کے لیے دعا کرنا صرف نیکی نہیں بلکہ فریضہ ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
“وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا”
(سورۃ الاسراء: 23)
ترجمہ: “اور تیرے رب نے فیصلہ کیا کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو، اور والدین کے ساتھ بھلائی کرو۔”
اسی سورۃ میں والدین کے لیے دعا سکھائی گئی:
“رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا”
یعنی “اے میرے رب! ان پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی۔”
یہ دعا والدین کی خدمت، محبت اور شکرگزاری کا بہترین اظہار ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“آدمی کے مرنے کے بعد اس کے اعمال ختم ہو جاتے ہیں، سوائے تین چیزوں کے: صدقہ جاریہ، علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔” (مسلم)
والدین کی دعاؤں کی برکت
ماں باپ کی دعا اولاد کے لیے اللہ کی رحمت بن جاتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ “والدین کی دعا اولاد کے لیے دیواروں کو چیر کر عرش تک پہنچتی ہے۔” (بیہقی)
اسی طرح اولاد کی دعا والدین کے درجات بلند کرتی ہے۔
والدین کے لیے چند مسنون دعائیں
- “رَّبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَن دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا” (سورۃ نوح: 28)
- “اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُمَا، وَارْفَعْ دَرَجَتَهُمَا فِي الْمَهْدِيِّينَ” (مسلم)
عملی پہلو
والدین کے لیے دعا صرف زبان تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان کی خدمت، فرمانبرداری اور ادب کے ساتھ ہونی چاہیے۔ اسلام میں والدین کی رضا کو اللہ کی رضا قرار دیا گیا ہے۔
نتیجہ
والدین کے لیے دعا ایک ایسا صدقہ جاریہ ہے جو مرنے کے بعد بھی نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ روزانہ اپنے والدین کے لیے دعا کرے — چاہے وہ زندہ ہوں یا وفات پا چکے ہوں۔