اسلام میں والدین کی خدمت کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“والد کی رضا میں اللہ کی رضا ہے، اور والد کی ناراضی میں اللہ کی ناراضی۔”
(ترمذی)
اسی طرح ایک اور حدیث میں آیا:
“جس کے والدین دونوں زندہ ہوں، پھر وہ ان کی خدمت کر کے جنت حاصل نہ کرے، اس پر افسوس ہے!”
(مسند احمد)
والدین کی خدمت کا اجر
والدین کی خدمت صرف دنیاوی فریضہ نہیں بلکہ اخروی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ ایک شخص نبی ﷺ کے پاس آیا اور جہاد میں جانے کی اجازت طلب کی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: “کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟”
اس نے کہا: “جی ہاں۔”
آپ ﷺ نے فرمایا: “پھر انہی کی خدمت میں جہاد کرو۔” (بخاری)
نافرمانی کی سزا
قرآن میں ارشاد ہے:
“وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا”
(سورۃ الاسراء: 23)
یعنی “ان سے عزت و احترام کے ساتھ بات کرو۔”
والدین کی دل آزاری ایسی گناہ ہے جس پر دنیا میں بھی سخت انجام ہوتا ہے۔
نتیجہ
والدین جنت کا دروازہ ہیں۔ جو ان کی خدمت کرتا ہے، وہ اللہ کی رحمت میں داخل ہوتا ہے۔ والدین کے لیے دعا، خدمت، اور نرمی ایمان کے بنیادی حصے ہیں۔