اسلام کی تاریخ انسانیت کی تاریخ کا سب سے روشن باب ہے۔ اس کی ابتدا چودہ سو سال قبل عرب کے ریگستانی شہر مکہ مکرمہ سے ہوئی، جب اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد ﷺ کو آخری نبی بنا کر بھیجا۔ اس وقت دنیا جہالت، ظلم، طبقاتی فرق، اور بت پرستی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ عرب میں عورتوں کو وراثت کا حق نہیں تھا، کمزوروں پر ظلم عام تھا، اور اخلاقی زوال انتہا کو پہنچ چکا تھا۔

ایسے ماحول میں نبی اکرم ﷺ نے توحید، عدل، اور اخلاق کا پیغام دیا۔ قرآنِ مجید کی پہلی وحی غارِ حرا میں نازل ہوئی:
“اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ”
(سورۃ العلق: 1)
یہ الفاظ اس بات کا اعلان تھے کہ علم اور ہدایت کی نئی دنیا قائم ہونے والی ہے۔

مکی دور کی جدوجہد

13 سالہ مکی دور میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، مگر نبی ﷺ نے صبر، عزم، اور دعوت کے تسلسل سے اسلام کی بنیاد کو مضبوط کیا۔ حضرت بلالؓ، حضرت خبابؓ، حضرت عمارؓ جیسے صحابہ نے بے پناہ مصائب برداشت کیے، مگر کلمۂ توحید سے پیچھے نہیں ہٹے۔

ہجرتِ مدینہ

اسلام کی تاریخ میں سب سے اہم موڑ ہجرتِ مدینہ ہے۔ جب ظلم حد سے بڑھ گیا تو نبی ﷺ نے اللہ کے حکم سے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی۔ یہی ہجرت اسلامی ریاست کی بنیاد بنی۔

نتیجہ

اسلام کا آغاز مکہ کی ایک چھوٹی بستی سے ہوا، مگر چند دہائیوں میں اس نے دنیا کے تین براعظموں تک روشنی پھیلائی۔ یہ محض ایک مذہب نہیں بلکہ انسانیت، عدل، اور علم کا نظام تھا جو آج بھی زندہ ہے۔